خواتین کا پسندیدہ مشغلہ

غیر ملکوں میں بھلے ہی معاشرے سے گھلنے ملنے کے لئے مختلف کلب وغیرہ بنائے جاتے ہوں گے۔ہمارے ملک میں جہاں دو   خواتین اکھٹی ہوں ایک سوشل سرکل وجود میں آ جاتا ہے۔اور یہ بہت اچھی بات ہے قوموں کو ایسا ہی ہونا چاہئے لیکن بات تب خراب ہوتی ہے نا کہ جب وہ دو خواتین مل کر تیسری کی برائی کرنے یا مزاق اڑانے لگ جائیں۔ایسا محفلوں میں بہت بار ہوتا ہے جیسے یہ خواتین کا پسندیدہ مشغلہ ہو۔کبھی آپ نے نوٹ کیا ہو یا نہ کیا ہو۔۔میں نے کئی دفعہ کیا ہے۔جہاں دو خواتین اکٹھی ہوتی ہیں کام کی بات کم اور برائ زیادہ پروان چڑھتی ہے۔میری خواتین قارئین اس بات سے خفا بالکل مت ہوں کیوں کہ میں خود بھی ان کی طرح ایک خاتون ہی ہوں اور وہی بات لکھ رہی ہوں جو حقیقت ہے۔

۔آپ آج ہی کی مثال لے لیجئے۔میں نےمیٹرو کے “زنان خانے”میں ابھی قدم ہی رکھا تھا کہ وہاں گپ شپ میں مشغول دو خواتین نے مجھے اوپر سے نیچے گھور کر دیکھا۔پھر ایک دوسرے کوآنکھوں آنکھوں میں اشارہ کیا اور منہ سا بنا کر سامنے کو دیکھنے لگیں۔ان میں سے ایک خاتون کی عمر لگ بھگ کچھ 40-45 کے قریب تھی۔آنکھوں میں بلا کا کانفیڈنس اور چہرے پر کچھ کرختگی تھی۔وہ بڑے مزے سے دونوں پائوں میٹرو کی نازک سر مئی سیٹ پر اوپر کر کے بیٹھی ہوئیں تھیں اور اپنے آس پاس کی ہر لڑکی یا خاتون پر کوئی نہ کوئی فقرہ کسے جا رہی تھیں۔ اور دوسری ان سے کچھ چھوٹی تھی جو ان کی ہاں میں ہاں ملاتی تھی غالباً دونوں ساس بہو تھیں۔خیر قصہ اس کے بارے میں نہیں ہے لیکن ان سے متعلق ہی ہے۔

دراصل  بات یوں ہے کہ میٹرو روز کی طرح کھچاکھچ بھری ہوئی تھی اور خواتین کا ایک گروہ ڈرائیور کے ساتھ بنے کھڑے ہونے کی جگہ پر ایک دوسرے کو کونیاں مار مار کر جگہ بنا رہا تھا۔اس جگہ پرجہاں تین سے چار خواتین کے کھڑے ہونے کی مشکل سے جگہ ہو گی،پانچ پانچ کھڑی تھیں۔پیچھے یعنی داخلی دروازے کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔وہاں بھی چار کی جگہ پر سات سات ٹھونسی ہوئی تھیں،جن میں سے ایک خاتون جوکہ میرے بالکل پیچھے کھڑی تھیں نے جگہ بنانے کی غرض سے مجھے دھکے دینے شروع کر دئیے۔اب میں پریشان کہ جائوں تو کہاں جائوں۔۔۔آگے آگ اور پیچھے دریا۔ خیر میرا سٹاپ کافی آگے تھا سو کچھ ہمت جتا کر میں آگے بڑھی کہ شاید کہیں جگہ نکل ہی آئے مگر بےفائدہ۔

اب کچھ نہ ہو سکتا تھا کیوں کہ میں بری طرح سے پھنس چکی تھی۔خواتین کا ایک ریوڑ تھا جو اسلام آباد کے ایک مشہورمال میں جانے کے لیے بے تاب تھیں۔کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ کاش یہ مال میٹرو کے سٹیشن کے قریب نہ ہوتا۔خیر یہ ایک الگ بحث ہے۔میں بتا یہ رہی تھی کہ جیسے ہی میں خواتین کے غول میں پھنسی میرے بائیں جانب بیٹھی کاجل والی آنٹی نے مجھے اشارہ کیا کہ ذرا بچ کے،،،اپنا پرس سنبھال لوں۔ان کی بہت بار میٹرو میں چوری ہو چکی تھی۔”بچ کر رہو،،،جتنے اعلان جاری ہوتے ہیں اتنی ہی چوری بھی ہوتی ہے۔اور خواتین والے حصے میں تو کچھ زیادہ ہی چوری ہوتی ہے کیونکہ ایک تو وہ جگہ تنگ ہے اوپر سے خواتین خود بھی خیال نہیں کرتیں اپنے پرس اور ضروری سامان کا۔” میں نے بات اپنے پلے سے باندھی اور ابھی پرس سینے  سے لگانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ کچھ خواتین نے پیچھے سے پھر جھٹکا دیا۔

پلیز دھکا مت دیں۔

میں تو نہیں دے رہی۔۔۔پیچھے سے کوئی لگا رہاہے۔۔۔ایک دبلی پتلی زیرِلب لڑکی نے صفائی پیش کی۔

:اب اس نے اپنے پیچھے کھڑی اپنی سہیلی کو دیکھ کر اونچا سا کہا

یار نہ دو نا دھکا۔۔۔لوگ تنگ ہو رہے ہیں۔۔۔اس نے لفظ “لوگ” پر خصوصی زور دے کر کہا اور پھر دونوں قہقہے لگانے لگیں۔ دونوں یونیورسٹی کی طلبہ تھیں اورعقلاً جیسی بھی ہوں شکلاً اچھی خاصی فیملی کی لگتی تھیں۔

خیر میں نے بچیاں سمجھ کر نظر انداز کیا اورآگے بڑھی۔بس کا ایک کونہ خالی نظر آ رہا تھا شاید کچھ سواریاں اترگئیں تھیں۔میں آگے بڑھی ہی تھی کہ میرے پیچھے سے وہ بچیاں بھی مجھے کاٹتے ہوئے آگے بڑھیں اور چوکڑی مار کر بیٹھ گئیں جیسے باغ میں بیٹھتے ہیں۔میں پھر ذیرِ لب مسکرائی اور انہیں کچھ راستے چھوڑنے کا کہا ہی تھا کہ وہ پھر شروع ہو گئیں۔۔۔”ہا ہا ہا ۔۔۔لک ایٹ ہر۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔شی از سو سٹوپڈ۔۔۔ہاہاہا اب کھائو دھکے۔”(ہا ہا ہا ۔۔۔اسے دیکھو۔۔۔۔یایایا۔۔۔یہ کتنی بیوقوف ہے۔۔۔)

ان کو ایسے ہنستا دیکھ کر کاجل والی آنٹی غرائیں،”لو جی،دیکھ لو آج کل کی لڑکیوں کا حال۔۔۔یہ سیکھ رہیں تعلیم سے۔۔۔پہلے دھکے دے پر پرس چیک کیا اب چوکڑی مار کر بیٹھ گئیں راستہ روک کر دوسروں کے لئے اور اوپر سے ہنسے بھی جا رہیں کہ بدھو وہ ہے۔

 آنٹی غصے سے چیخ رہی تھیں اور وہ لڑکیاں ہنس ہنس کر پاگل ہوئے جا رہی تھیں۔اور ان دونوں کے درمیان کھڑی میں یہ سوچ رہی تھی کہ کیا واقعی ہمیں تعلیم یہ سیکھا رہی ہے؟

Advertisements

2 thoughts on “خواتین کا پسندیدہ مشغلہ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s