کُشتی ان کار

 A thought-provoking Kushti in Car

او تیری ڈیش کی ڈیش،بڈھی مائی کہیں کی۔۔ویگن میں بیٹھی ایک سواری نے اپنے ساتھ والی کو بے انتہا محبتوں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا۔

تجھے بتاتی ہوں سالی،تو نے مجھے بڈھی کہا،اب بتاتی ہوں بڈھی میں ہوں کہ تو۔۔۔خالہ کبریٰ نےجلال میں آتے ہوئے اپنے ساتھ بیٹھی لڑکی نما پٹا خہ کےمنہ پر زور دار تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا جو مسلسل انہیں بھاری بھرکم گالیاں بکے جا رہی تھی۔

میرا منہ آگے کی طرف تھا  اس لیے میں تھپر لگتے سین کی زیارت تونہ کر سکی تھی البتہ کنڈیکٹر کی کمنٹری سے اندازہ لگایا تھا کہ آنٹی نےزناٹےدار تھپڑ دے مارا تھا کہ لڑکی کا گال سرخ ہو کر چہرہ دوسری جانب مڑ چکا تھا۔اب دونوں پارٹیاں غصے میں آ چکی تھیں،انہوں نے بازو اوپر کر لیے تھے اور دونوں ہی سخت مقابلے کے لیے تیار تھیں۔

  “کنڈیکٹر کی “چھوڑو چھوڑو

کی آواز نے مجھے بے انتہا پیچھے دیکھنے پر مجبور کر دیا کیونکہ اب کہ وہ بول نہیں بلکہ چیخ رہا تھا اور خود کو بھی بچا رہا تھا مگردونوں پارٹیاں تھیں کہ طیش میں آ چکی تھیں جیسے چنگاریاں بھڑک چکی ہوں۔

ویگن میں ایک شور سا برپا تھا اور کچھ مرد کنڈیکٹر کی طرح چھوڑو چھوڑو کہہ رہے تھے تو کچھ ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو کر صںفِ نازک کی لڑائی کو انجوائے کر رہے تھے جو کہ تھوڑی نہیں بہت ولگر ہوتی جا رہی تھی۔ ۔مگرشرافت کی بھی کوئی حد ہونی چاہئے نا آخر۔کبریٰ پٹھان تھیں اورآبپارہ میں ان کی دوکان تھی اور شام کے وقت کاروبار بند کر کے گھر واپس لوٹ رہی تھیں۔ہم دونوں ایک ہی ویگن میں بیٹھے تھے اور میری خوش قسمتی یہ کہ مجھے اگلی سیٹ پر جگہ مل گئی تھی اور وہ بیچاری کالے اور پیلے کپڑوں والیوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر رہ گئیں تھیں۔دراصل کالے کپڑوں والی چاہتی تھی کہ وہ اپنے گروپ کے ساتھ ویگن کی پچھلی چاروں سیٹیں رکھے،اس کے پاس بڑی سی گھاس پھونس کی پوٹلی بھی تھی اور وہ بضد تھی کہ وہ پوٹلی جوکہ پورا پوٹلا تھا بھی ساتھ رکھے گی،دوسری طرف ڈرائیوراور کنڈیکٹر اس کو سمجھا رہے تھے کہ سواری کی جگہ پر پوٹلی نہیں رکھے بلکہ نیچے کھڑی سواری کو جگہ دے دے۔بیٹھتے ہی اسے پہلے مسئلہ تو یہ ہوا تھا کہ پوٹلی اور اس کی ساتھیوں کی جگہ آنٹی نے کیوں لے لی،پھر جب اس نے ڈرائیور کو گالیاں دیں تو آنٹی نے بڑا ہونے کی وجہ سے اسے سمجھانے کی کوشش کرنے کی غلطی بھی کر ڈالی تھی۔

اب کیا تھا کالے کپڑوں والی اور اس کی ساتھی نے ان کے لیے مصیبت کھڑی کر دی تھی۔وہ ڈرائیور،کنڈیکٹر،آنٹی اور سبھی کو گالیاں دیئے جا رہی تھیں اور ساتھ میں طعنے بھی کہ تم اسلام آبادیوں کو تو دیکھ لیں گے۔جانتے نہیں تم لوگ ہم کون ہیں اوپر سے کرایہ نہ دینے کی دھمکیاں۔۔۔عجیب ڈرامہ لگا ہوا تھا جو جو دیکھ رہا تھا آنکھوں کو بند اور کانوں کو ہاتھ لگائے جاتا تھا۔کالے اور پیلے کپڑوں والی کام ہی ایسے کر رہی تھیں۔پھاپھے کٹنیاں

تو پھر ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ناپھر آنٹی کو جلال آنا ہی تھا نا۔وہ کافی دیر سہنے کے بعد

 برسیں تو خوب برسیں۔انہوں نے کالے کپڑوں والی کو ایک تھپڑ مارنے کے بعد پیلے کپڑوں والے کے بالوں پر جھپٹا مار کر اس کی پوری گت کھینچ لی۔ پھر ان کی تیسری ساتھی کی جانب بڑھیں اور اسے زور سے گھونسا دے مارا۔کالے اور پیلے کپڑوں والیوں کو بھی غصہ آیا انہوں نے بھی مل کر خالہ پر وار کرنے کے لیے جیسے ہی ہاتھ آگے کئے آنٹی نے گاڑی میں ہی تھوڑا اوپر کی جانب ہو کر دونوں کےسروں پر مکے مارنے شروع کر دئیے۔

اب پوری گاڑی میں گویا کشتی کا سا سما بندھ گیا تھا،عمر رسیدہ ڈرائیور نے جلدی سے گاڑی روکی اور پیچھے بیٹھی خواتین سواریوں کو اپنی طرف سے شانت کرنے کے لئے آگے بڑھا مگر تینوں نے اس کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔آخر میں بات کہاں جا کر ختم ہوئی یہ بتانے کے لیے الفاظ تو یاد نہیں آ رہے ایک بچپن کی نظم کا مصرع شاید اس کی وضاحت کر پائے

لڑتے لڑتے ہو گئی گم ایک کی چونچ اور ایک کی دم

پھر ہم کہتے ہیں جی ملک میں امن نہیں ہے،ہم خود کون کا پرامن ہیں؟پھر خواتین کہتی ہیں مرد ان کی عزت نہیں کرتے،(جی جو خواتین کرتیں ان سے سب ہی کا نام خراب ہ رہا)۔۔۔پھر ہم کہتے حکومت بڑی ہی کرپٹ ہے،جی ہم خود بھی کم نہیں ہیں اپنی  اپنی حیثیت کے اندر ہم سب ہی کرپٹ ہیں ، ہیں نا کہ نہیں؟

Advertisements

2 thoughts on “کُشتی ان کار

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s