توقعات

بارش، گیلی سڑک پر پھیلے رنگین رنگ،ہلکی ہلکی ٹھنڈ اور سرمئی شام آج سے پہلے اسے کبھی اچھے نہیں لگتے تھے۔وہ ان استعاروں کو دیکھ کر ہمیشہ خوش نہیں ہوا کرتی تھی مگر یہ سال انوکھا تھا۔جیسے جیسے عمر بڑھ رہی تھی ویسے ویسے لفظوں کے مطلب، جذبوں اور احساسوں کے معنی بھی اس کے لیے بدلتے جا رہے تھے۔اب وہ ہر وقت مطمعن رہتی تھی۔جیسے کوئی وکیل مقدمہ جیتنے کے بعد مطمعن ہوتا ہے۔اس اطعمینان کی بہت سی وجوہات تھیں جن میں سے ایک وجہ زندگی میں آنے والے مثبت لوگ بھی تھے۔

وہ ایسے لوگوں کو کبھی نہیں بھولتی تھی جو اس کو کسی بھی وجہ سے متاثر کرتے تھے۔ان سے جذباتی وابستگی قائم کر لیتی اور ان کو دل سے چاہنے لگتی۔

چاہت اور جذباتی وابستگی کی حد تک تو ٹھیک ہے مگر معاملہ تب خراب ہونے لگتا جب ایسے لوگوں سے توقعات حد سے زیادہ کرنے لگتی۔آج بھی ایسا ہی ہونےوالا تھا۔ اس کی سالگرہ تھی اور کسی کو بھی یاد نہیں تھا۔جبکہ وہ کئی ہفتوں سے ان سے توقع کر رہی تھی کہ اس کی سالگرہ پر ایسا ہو گا ویسا ہو گا۔۔۔۔مگر ہوا وہی جو عام زندگی میں ہوتا ہے۔ہر ایک کی اپنی مصروفیت ہے،ہر ایک کی اپنی زندگی ہے اور ہر ایک کی اپنی سوچ تو وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔

سب اس کی سالگرہ بھول گئے اور اس سے کسی کو فرق کیوں پڑنا تھا،سوائے اس کے۔۔۔۔وہ صبح سے لے کر دوپہر اورپھر دوپہر سے لے کر رات تک یہی سوچتی رہی کہ کوئی اب اسے وش کرے گا،اب کرے گا۔۔مگر نہ کوئی میسج آیا نہ پیغام اور آخر میں وہ خود ہی اداس ہو کر رونے لگی۔

 

Advertisements

4 thoughts on “توقعات

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s