چٹکلے 2

چٹکلے 
میری ذاتی زندگی سے منسوب مزاحیہ
 تجربات ہیں جنہیں قسط وار خاکوں کی
 شکل میں پیش کر رہی ہوں۔

کم بخت بس کردے جس کا کپ تو اٹھا رہی ہے نا،اس نے دیکھ لیا تو ہم بھوتوں کی بھی چھٹی کروا دے گی۔۔۔۔جینی کی چڑیل اماں نے سنسان آفس میں بیٹی کو مستیوں سے روکتے ہوئے کہا۔

جینی اور اس کی ماں بھوتوں کے خاندان سے تھیں اور ایک مشہور پاکستانی میگزین  کے دفتر میں رہتی تھیں۔جب میگزین کا عملہ چلا جاتا تو یہ دونوں ایکٹو ہو جاتیں اور جب آتا تو چھپ کر انہیں دیکھتی رہتی تھیں۔

ارے نہیں اماں، کیوں فکر کرتی ہو۔ کچھ نہیں ہوتا۔ جینی نے بے فکری سے پیلےرنگ کے کپ کو ہاتھوں میں لہراتے ہوئے کہا۔

اری کم بخت،بس رکھ دے یہ کپ۔ کیوں چین نہیں لیتی تو۔جانتی نہیں تو یہ کس شیرنی کا کپ ہے۔

کس شیرنی کا کپ ہے اماں؟میں تو سمجھتی تھی یہ انسانوں کا آفس ہے۔جینی نے قدرے معصومیت سے کہا اور پھر ماں کو دلاسہ دینے کے لیے بولی ،ارے اماں فکر کیوں کرتی ہو۔ہم نے کون سا یہیں بیٹھے رہنا ہے صبح تک۔۔۔۔تھوڑی مستی کریں گے پھر غائب ۔۔۔۔آرام کرو آپ میں تو کھیل رہی ہوں۔۔بڑا پیارا کپ  ہےیہ۔

ارے نہ چھیڑ کم بخت، تو کچھ نہیں جانتی،تو تو صبح اڑ جائے گی اور پیچھے میری ناک میں دم کر دیں گے یہ میگزین والے۔۔۔یہاں ایک نہیں چودہ شیر رہتے ہیں اور سارے ہی ماشااللہ کمال ہیں۔۔ماں نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔

نہ نہ ماں،میں نہیں مانتی کہ یہاں اتنے خطرناک لوگ آباد ہیں۔۔۔شکل سے تو بڑے معصوم اور بھولے لگتے سارے۔۔۔۔میں تو اور چھیڑوں گی۔۔۔بڑا مزہ آ رہا ہے۔۔۔اور ویسے بھی یہ کپ مجھے بڑا پسند ہے۔ جینی نے بڑی شیرنی کی ٹیبل پر کپ میں پڑا ٹی بیگ پرے پھینکا اور پھر خود بھی اس ٹیبل پر الٹی قلابازی کھاتے ہوئے چلائی۔

ارے جینی، میرا موڈ خراب نہ کروانا صبح،یہ جو تو حرکتیں کر رہی ہے نا ۔۔۔۔یہ بھگتنی مجھے پڑ جائیں گی۔ماں نے ڈر اور غصے سے پر پھڑپھڑاتے ہوئے کہا۔

ماں کو اے سی کے اندرخوف سے سر ڈالتے دیکھ کر جینی تھوڑا ٹھٹھکی ۔پھراسے ایزی کرنے کے لیے بولی، اچھا ماں صبح ہونے کو ہے،ایسا کر آج تو جا،آج میں رہ جاتی ہوں یہاں۔

ماں نے اسے حیرت سے دیکھا پھراے سی سے سر نکال کر بولی ۔۔۔دیکھ لےڈرے گی تو نہیں۔تو ابھی بچی ہے،انسانوں کو نہیں جانتی۔۔۔ کیسے کیسے ڈیش ہوتے ہیں۔

کیسے کیسے ۔۔۔کیسے؟ جینی نے پھر الٹی قلابازی کھائی اور پھر سے پیلے کپ کو چھیڑ کر حیرت سے پوچھنے لگی،ماں بتا ناکیسے ڈیش ہوتے ہیں انسان؟کیا مجھے کھا جائیں گے؟

جینی کو انسان دیکھنے کا بہت شوق تھا اور ماں نےمیگزین والوں کی بات کی تو وہ اور بھی متجسس ہونے لگی کیونکہ اس نے ان کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا مگر ابھی تک مل نہ سکی تھی۔

ارے نہیں،یہ ہیلتھ کئیر والے ہیں۔۔۔کھانے پینے کے معاملے میں بڑے ٹچی ہیں۔۔۔کھائیں گے نہیں۔ ہاں،مگر حلال ضرور کر سکتے ہیں، ماں نے وضاحت کی۔

ارے واہ،پھر تو ملناہی پڑے گا ان سے۔۔۔۔ماں آج تو جا۔۔۔دن چڑھ گیا ہے۔وہ لوگ آنے ہی والے ہوں گے۔آج مجھے بھی دیکھنے دے آخرانسان ہوتے کیسے ہیں۔جینی نے دونوں ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔

اچھا ٹھیک ہے میری بچی، میں جاتی ہوں تو خیال رکھنا اپنا اور جیسے ہی خطرہ محسوس ہو رفو چکر ہو جانا جیسے کرم ہوتا ہے کام کے وقت۔

کرم؟ ماں یہ کرم کون ہے؟

خودی دیکھ لینا آج۔۔۔۔کون ہے’شہزادہ’ کرم۔۔۔۔ویسے یہ اچھا ہے کہ تو ان سے ملے۔۔۔انسانوں کو سمجھنے کےلئے بڑا اچھا رہے گا تیرے لئے۔ماں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔

ہاں ہاں ماں فکر نہ کر۔۔ جینی نے  بے فکری سے کیبن کی سائیڈوں پر ناخن مارتےہوئے کہااور ماں کے جاتے ہی بڑی شیرنی کی ٹیبل پر اچھل کود کرنے لگی

ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کہ دروانے کی جانب سے کچھ  کھڑکھڑانے کی آوازیں آنے لگیں۔۔جینی نے منہ میں ڈلا کاغذ کا ٹکڑا نیچے پھینکا اور چھپاک سے چھت کی جانب اڑ گئی۔”لگتا محترم انسان نازل ہونے کا وقت ہو گیا”۔

(جاری)

I regard Shifa News magazine as my alma mater
though I recently joined it. Because the monthly 
(magazine) and its team helped refine and teach me a lot.
I worked at different places previously
but was never ever loved, respected,
honored and understood more than I am here (@Shifa News). 
And it is just because of my team and my Shifa News family.

This story is a tribute to the magazine team. 
And I already say sorry, if
Kurum or the 'Sherni' feels bad
about their introduction. :P

Advertisements

5 thoughts on “چٹکلے 2

  1. I couldn’t get it. But as far as I can tell it is a dialogue between two non-human probably flies or some other flying insects about human beings. I liked reading but it is slow and repetitive. The whole passage said only one thing and that’s it. On technical grounds, the writer should be aware of that News Channels, Newspapers don’t off at night they work 24/7 to broadcast or publish stuff every day. So, technically this imaginary office wasn’t empty at the time of this hypothetical conversation. Regards

    Liked by 1 person

    • lol
      Shifa News magazine does not work at night. It is a monthly healthcare journal. The scene is repetitive and slow just to make the foreground. Thank you for your reply

      Liked by 1 person

  2. People who respect us, value our performance, praise our strengths, own our shortcomings, honour our imperfections and refine our skills are indeed valuable..

    God Bless your team with best of everything.

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s