Rumi’s legacy III

“I said: what about my eyes?

He said: Keep them on the road.

I said: What about my passion?

He said: Keep it burning.

I said: What about my heart?

He said: Tell me what you hold inside it?

I said: Pain and sorrow.

He said: Stay with it. The wound is the place where the Light enters you.”

میراثِ رومی

:ترجمہ

 میں نے کہا: میری آنکھوں کے بارے میں کچھ کہیئے

وہ بولا:انہیں منزل کی جانب ہی رکھ

  • میں نے پوچھا: میرے جذبے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

  • وہ بولا:اس (شمع کو ) جلائے رکھ

  • میں نے مزید استفار کیا: اور میرے دل کے بارے میں

  • وہ بولا:مجھے بتا اس میں کیا چھپا رکھا ہے؟

  • میں نے بتایا:درد اور غم

  • اس نے جواب دیا:اسے نہ چھوڑ۔زخم ہی وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی داخل ہوتی ہے

  • :تشریح

  • اصولاً تو مجھے اس ساری نظم کو ہی ریویو کرنا چاہئے مگر آخری والی لائن اتنی پاورفل ہے کہ اگر میں نے اپنا فوکس اس سے ہٹایا تو بات بن نہ پائے گی اس لیے یہاں صرف اس پر ہی روشنی اپنی قلیل سی معلومات،تجربے اور احساسات کی روشنی میں ڈالوں گی۔ملاحظہ کیجئے۔۔۔

  •  پڑھنے میں خوبصورت، مگرسوچو تو عجیب اور

  •    بظاہر ناممکن سے جوابوں سے مزین رومی کا اپنے مرشد کے ساتھ یہ مقالمہ

  • ناصرف خوبصورتی سے لکھا گیا ہے بلکہ اس میں کامیاب زندگی گزارنے کے بہترین اصول ، غم سے بچنے کا آسان حل اور درد میں سکون پانے کے لیے سب سے مفید اور بہت نیچرل دوابتا دیہے۔۔

  • ہاں مگراس میں کوئی شک نہیں کہ بتایا گیا حل شروع میں تھوڑا سامشکل ضرور لگتا ہے کہ نہیں غم کو کیسے پالا جا سکتا ہے اور ہم جس درد میں مبتلا ہیں وہ ہی ہماری دوا کیسے بن سکتا ہے۔مگر یہ حقیقت ہے۔

  •  پس اس کے لیے آپ کوخود کو سمجھانا ہو گا۔اپنے سوچ کے انداز کو چیلنج ہو گا جو تھوڑا نہیں دنیا کا شاید سب سے بڑا چیلنجنگ کام ہے مگر اسے کر لینا ہی کامیابی کے زینے پر چڑھانے والی پہلی سیڑھی ہے جسے چڑھنے کے بعد منزل طے کرنا آسان ہو جاتا ہے۔بس اپنے سوچ کے انداز کو تبدیل کر لیجئے۔جو چیز درد دے رہی ہے اسے اپنا امتحان جان لیجئے اور اس میں رونے کی بجائے سیکھنے کے پہلو پر توجہ دیجئے۔۔دراصل ہمارے معاشرے،کلچر،فیملی،تربیت نے ہمارا کسی بھی چیز کے بارے میں جو کانسپٹ بنا دیا ہے وہ تبدیل کرنا ہم میں سے اکثر کو مشکل نہیں، بہت کٹھن اور بعض اوقات تو “انا کا مسئلہ”بھی لگتا ہے۔مذہبی بحث کو تو چھوڑ ہی دیجئے، آپ عام اورچھوٹی سی چیز ہی لے لیجئے۔۔۔۔جیسے کہ ہمارا لائف اسٹائل۔۔

  • ایک منٹ کے لیے ذراسوچ کر تو دیکھئے کہ آپ کو کوئی کہہ دے کہ آپ کل سے آپ سالن روٹی سے نہیں چمچ کی مدد سے کھائیں گے۔۔روٹی بنانی ہی نہیں۔۔۔(اگرآپ پاکستانی یا انڈین نہیں ہیں تو شاید آپ کو اس میں کوئی مسئلہ نہ ہویا پھر دفتر جانے کے لیے اسکوٹر یا گاڑی استعمال کرنے کی بجائے پیدل ہا سائیکل چلائیں گے۔۔۔یا آپ کی شادی بیاہ یا کسی بھی اور چیز کی رسوم جو آپ ہمیشہ سے کرتے آ رہے ہیں وہ نہیں کریں گے) اگر آپ کے علاقے میں رواج ہے کہ آپ نے شادی پر بینڈ باجے بجانے ہی بجانے ہیں تو چاہے آپ کو کتنے ہی برے کیوں نہ لگتے ہوں،آپ وہ ضرور بجواتے ہیں یا جو شخص آپ کے رسوم سے ہٹا ہو اس کو آپ باغی ہو کہہ دیتے ہیں!۔

  • تو سوچیں کہ کوئی آپ کو کہے کہ ان رواجوں سے ہٹیں تو ایک منٹ کے لیے آپ سوچ میں ضرورپڑ جائیں گے کہ یہ کیسے ہو گا۔ساری عمر گاڑی،اسکوٹر،بس میں جاتے رہے اب پیدل وہ بھی اتنا لمبا رستہ۔۔۔۔۔نہ نہ نہ۔۔۔۔دیکھئے گا کہ آپ ایک دم سو بہانے تراش کے اس نئے کانسپٹ کی نفی کر دیں گے جو درحقیقت آپ کے اپنے فائدے ہی کی بات ہے ۔ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ اس میں محنت زیادہ ہے۔اب کون صبح اٹھے،جہاں آٹھ دس منٹ میں پہنچنا ہے وہاں 1 گھنٹے چل کر جائےوغیرہ ۔بس یہی حال ہمارے غم کے بارے میں کا نسپٹ اور پرسپیکٹوو یا نقطہء نظر کا بھی ہے۔یعنی ہمیں اپنا چیزوں کو دیکھنے کا نظریہ بدلنا سب سے محال لگتا ہے۔اور جہاں ان کو تبدیل کرنے کی بات آتی ہے وہاں ہماری سٹی گم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔سیرسلی۔۔میرے اپنے ساتھ یہی مسئلہ رہا۔۔۔میں ساری زندگی غم کو اپنا دشمن ہی سمجھتی رہی۔ساری زندگی اپنا خون جلاتی رہی۔۔ساری زندگی روتی دھوتی رہی۔۔۔اس حقیقت کو جانے بغیر کہ غم کے اندر ہی تو خوشی اورمیرا سکون مضمر تھا۔

  • یہحقیقت ہےہمیں بعض اوقات چیزوں کو دیکھنے کا نظریہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے بس۔ بس اس کے لیے تھوڑا جی کڑا کرنا پڑتا ہے۔آپ سوچ نہیں سکتے کہ میں نے کتنا سچا اور درست پایا اس قول کو۔جب میں نےدرد آنکھیں ملانا شروع کی ہیں اور ٹھان لی ہے کہ ان کا سامنا کرتے گھبرانا نہیں ہے جب سے ہی میرے دل میں سکون کی حکومت شروع ہوئی ہے۔میرے جیسا انسان جو ہمیشہ ہی حالات سے بھاگا کرتا تھا۔اپنی زندگی ختم کرنا چاہتا تھا اور ایک دو بار خود کشی کی کوشش بھی کر چکا تھا (اور ہر لمحہ بے چین اور بے سکونی کا رونا ہی روتا رہتا تھا۔)اب اس قدر سکون اورحالتِ شکر میں ہے کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔۔۔۔جہاں جہاں میرے زخم ہیں وہاں وہاں سے میں نے چیخنا چلانا چھوڑ کرہنسنا مسکرانا کیا ہے۔اور ان احساسات سے دوستی کر لی ہے تب ہی میری تحریروں میں بھی جان آنے لگی ہے۔اللہ کی طرف سے میرے اندرتخلیقی صالاحیتوں کی کمی نہیں تھی مگر دکھ اور بے چینی کی چارد نے کئی سال انہیں ڈھانپ رکھا تھا۔میں نے جب وہ چادر اٹھائی تو اندر سے نگینے برآمد ہونے لگے۔ہر دن سکون،ہر دن شکر۔۔ہر دن مسکراہٹ۔۔۔۔۔خوشیوں نے میرے قدم چومنے شروع کر دئیے اور دیکھتے ہی دیکھتے میں نے اپنی زندگی کے دو اہم اہداف بھی حاصل کر لیے۔سوچتی ہوں کہ اتنے سال پریشان اور بے سکون رہنے سے کیا ملا۔۔؟۔پہلے ہی یہ بات سمجھ لیتی۔۔۔۔ایک سال ہی کی محنت کی اور اسی سال کے اندد اندد اتنی خوشیاںمل گئیں۔اس پراللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔دعا گو ہوں کہ اللہ ہر پڑھنے والے کو بھی ایسے ہی خوشیاں اور مسرتیں عطا کرے۔آمین۔

    According to Mumta Sehgal, a content writer and consultant, the is a beautiful quote by the famous Persian poet, Rumi. The quote has a deep meaning and thus gives us a profound lesson. When we get wounded or in other words are in trouble or are going thru a rough phase in life,that is the time when we are closest to God and get the enlightenment & the awareness of HIS presence.

When in good times, the human beings tend to be in a different space, enjoying the goodies coming from all angles. They are on their own ego trip, thinking that all their wellbeing is a result of their own acts and no one else is responsible for it. They live in their own world, which is far away from realism and thus far off from God.

It is when the bad time starts and when they are hurt or  are in their rough phase and see only darkness in their life, then they look up to the Almighty and try to look for answers to their worries and problems. It is at this moment when they realise that no one but God can give solutions to all their woes.

The Power above, on the other hand, lets the human beings do what they intend to do. HE never interferes in their day to day acts and just observes everything while been present in the heart of each individual.

The human  problems are the result of their own karmas and are thus advent, but as soon as they look for relief from the Almighty, HE helps and as a result the effect of the bad times reduces. Thus the realization that no one else but only God is the rescuer of our problems increases the closeness to God .

Advertisements

14 thoughts on “Rumi’s legacy III

  1. A great saying, and an inspiring real story….!

    “Kaee baar dard ka ilaaj dard hi hovay hai…” [by “Arifa”, in the film: “Sultan”]

    Let me share with you a link of a story, of someone who embraced his weakness:
    https://maddojazar.wordpress.com/2015/09/15/life-time-tips-from-a-man-of-passion-courage-and-strength/

    Success is failure turned inside out….
    The silver tint in the clouds of doubt,
    And you never can tell how close you are,
    It might be near when it seems afar…
    So stick to the fight when you’re hardest hit…
    It’s when things seem worst that you must not quit.

    Like

  2. Syedna Ali Al-Murtaza (RA) said: “mein ne Allah ko apnay iraadon kay tootnay se pehchaana…”

    “The wound is the place where the light enters you” contains a different understanding of ‘wound’ and ‘light’.

    I think it is about the soul.

    The wounds of soul are invisible, and as such do not get healed unless exposed to light of hope, assurance, faith and God’s infinite mercy. The light may enter in the form of a healing ‘golden touch’, an honoured commitment, a serene environ, a creative pursuit, a connection with Allah, a passion to follow, a valuable contribution to someone’s life, or even a single comment / remark by someone that brings out the best in us (and vice versa).

    Many a times we are down, due to rough patches in life’s road. Jub sarrak kharaab ho to gaari aahista chalaai jaati hai. We must strive to look for deeper meanings to our miseries. Although it is difficult, but once we tend to own and manage our miseries, everything changes.

    “Every thing will be okay in the end. If it is not okay, it is not the end”…..

    Exposure to light requires much strength, and may be more pain. The dividends are great.

    Here’s a link that speaks of a friendship as a relationship, and the extent of difference and positive energy that it instills in our life. We sure, have to be lucky to have good friends, but as the saying goes: “The world is full of good people. If you can’t find one, be one…”

    https://maddojazar.wordpress.com/2015/09/15/friendship/

    This link is shared in the subject context, because very few people can peep into our souls so easily. And friends know us inside out, thus are the powerful light-rays those enter our wounds to heal us.

    Liked by 1 person

  3. Rumi’s wisdom in this quote is profound as always. And the interpretation by Mumta too very meaningful. I do believe too we must have an abundance of faith in the Almighty in all times good as well as in bad times.
    Thanks Samana and regards.

    Liked by 1 person

  4. Pingback: Rumi – Some thoughts by an ‘outsider’ – 3 | Madd o Jazar

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s