موت سے 3 دن پہلے

ہفتہ،شام سوا سات بجے کا وقت ہے۔مجھے ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ میں مزیدتین دن یعنی منگل کی شام سوا سات بجے تک سانس لے پائوں گی۔اس سے زیادہ کی ڈیڈ لائن نہیں ہے۔سنتے ہی سب سے پہلے تو میرے پیروں سے زمین سرکی ہے،پھرآسمان سر پر گرا ہے،اورپھرمیرےہاتھوں کے طوطے اڑنا شروع ہوئے ہیں۔آنکھیں باہر کو آ رہی ہیں اور دل ہے کہ دھڑکے جا رہا ہے کہ بس اتنا سا وقت ملا۔۔۔ابھی تو یہ بھی کرنا تھا وہ بھی۔ایک دم پہلے خوف نے گھیرا ہے کہ میرے ذمے جو ذمہ داریاں ہیں وہ کیسےاور کون نمٹائے گا؟یہ سوچ سوچ کر دل بیٹھے جا رہا ہے کہ میرے بعد میری ماں کا کیا ہو گا۔میری فیملی کیا کرے گی۔ان کے لئے تو بڑے مسئلے بن جائیں گے پھر

یہ خیال آیا ہے کہ میں ہوتی کون ہوں یہ سوچنے والی کہ میرے بعد میری فیملی کا کیا ہو گا۔میں ان کی رازق تھی ہی کب۔میں تو ایک وسیلہ تھی۔میرا ڈیوٹی شاید بدل گئی ہے۔تو مجھے بھی اس نوٹیفیکیشن کا فائدہ اٹھانا چاہئے اور ہر ذمہ دار انسان کی طرح یہ سوچنے کی بجائے کہ اب ان کا کیا ہو گا۔یہ سوچنا چاہیے کہ میں نے کرنا کیا ہے۔سب سے پہلے تو میں اپنی امی کو سیکیور کرنے کے لیے اپنے سارے اے ٹی ایم ۔۔۔بینک چیکس اور دیگر میرے استعمال کی چیزیں سونپ دوں گی۔ان کو شاید بتائوں نہیں کہ میں تو جا رہی۔۔ان کو صرف بلا واسطہ طریقے سے چیزیں سمجھائوں گی۔یا کم از کم ان کو بتا جائوں کہ میری یہ چیزیں کہاں پڑی ہیں۔ان چیزوں کے بارے میں ایسے ہی بہن بھائی کو بھی بتا جائوں کہ یہ ماما کو ہی دینی ہیں۔آگے ماما کی مرضی جس کو بھی دیں۔ دوسرا اہم کام وہ یہ

اپنی رائیٹنگز یعنی بلاگ،کتابیں اور جو بھی میں نے کام کیا ہے اس کو سیف کرنے کی کوشش کروں گی۔بہت عرصے سے یہ خواہش تھی کہ لکھوں کچھ۔….اللہ نے اس سال بہت سی دیگر نعمتوں کے ساتھ ساتھ یہ خواہش بھی پوری کر دی۔۔۔اور میں اس شعبے میں آ گئی۔۔۔۔۔شکر اللہ کا۔۔۔ہاں لیکن

اپنی آخری تحریر لکھنے کی کوشش کروں گی۔اس وقت جو جذبہ طاری ہو گا اسے قلم بند کرنی کوشش کر کے پیبلش کروں گی بلاگ پر۔پھر اپنی چھوٹی بہن کو اپنے بلاگ اور دیگر آئی ڈی اور باسورڈز دوں گی کہ میرے بعد بلاگ پوسٹس کی پروموشنز کرتی رہنا،میں رائیٹنگز میں ہمیشہ زندہ رہنا چاہتی ہوں۔

میں نہیں جانتی تیسرا کام پریکٹیکل ہے یا نہیں مگر ہاں کوشش ضرور کروں گی،اپنا کفن خود خریدوں گی۔بہت اچھا سا اور اس کے ساتھ کافور بھی۔کفن الماری میں پریس کر کے لٹکا دوں گی جیسے آفس کے کپڑے لٹکے ہیں اور کافور فریج میں سیف کر دوں گی

ویسے تو میں پانچ وقت کی نمازی نہیں ہوں مگر موت کا نام سنتے ہی پانچوں نمازوں کی کوشش ضرور کروں گی۔اپنے گناہوں کی معافی مانگوں کی رب سے بہت دل سے۔لیکن ساتھ ساتھ رو کر تھینکس بھی کروں گی کہ اللہ تیرا شکریہ میرا زندگی میں وقت جتنا بھی تھا بڑی خوش اسلوبی سے پورا ہوا۔

اللہ کا بہت شکر ادا کروں گی کہ میں زندگی سے ہار کر نہیں جا رہی۔کامیاب لوٹ رہی۔ اس سال خصوصاً میری زندگی کے دو بڑے مقاصد پورے ہوئے۔ایک اپنی امی کو سیکیور کرنا اور دوسرا۔۔۔ایک کامیاب رائیٹر کے طور پر خود کو منوانا

یاد رہے کہ کامیاب رائیڑ ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں

کہ میں کوئی مشہور و معروف اور پیسے والی رائیٹر بن گئی۔میری کامیابی کی ڈیفینیشن یہ ہے کہ میں اپنی رائیٹنگ بہت خلوص سے کرتی ہوں چاہےرسالے کے لیے ہو،کلائینٹ کے لیے یا اپنے بلاگ کے لیے۔اور میری تحریر پڑھنے والا انجوائے کرتا ۔ہے۔بس یہی میری کامیابی ہے

کلائینٹ سے یاد آیا کہ میرے پاس کسی کی نامکمل کتاب کا آرڈر ہوا تو اس کو مکمل کروں گی۔اگر تین دن اس کام کے لیے نا کافی ہوئے تو چھوٹی کو ہینڈ اوور کر جائوں گی کہ مقررہ تاریخ پر کام کلائینٹ کو ڈیلور کر دے پھر میرا فری لانسنگ اکائونٹ ڈی ایکٹویٹ کر دے۔فیس بک،ٹویٹر وغیرہ ڈی ایکٹو نہیں کروائوں گی۔چھوٹی کے پاس اس کے پاسورڈ ہوں گے اس کوکہوں گی کبھی چیک کر لیا کرنا میرا اکائونٹ۔۔میری یاد میں

یعنی اب آفس اور کاپی (پرینٹر کو بھیجنے سے پہلے میگزین کی تیار شکل کا نام)کا خیال آئے گا۔کاپی جا چکی ہوئی تو شکر ادا کروں گی کہ چلو کام ہو چکا ہے۔لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو کوشش کروں گی کہ مس حلیمہ کو بلا واسطہ طریقے سے بتائوں کہ کام رکنے والا ہے کچھ بندوبست کر لیں۔مثلاً انہیں کہوں گی کہ میں موٹا موٹا کام کر لوں گی تین دن تک آگے شاید میری کہیں اور جاب ہو جائے۔یہ تین دن میں کنفرم ہو گا۔آپ دیکھ لیں کوئی بندہ بندی۔وہ کریدیں گی کیوں چھوڑ رہی کہوں گی بس۔۔۔ابھی کنفرم نہیں کر رہی مگر آپ بندہ تیار رکھیں تاکہ آپ کو مسئلہ نہ ہو۔اصل بات نہیں بتائوں گی موصوفہ، بہت چھوٹے دل کی مالک ہیں۔۔۔مرنا میں نے ہے پر مر وہ جائیں گی۔یہ بات سن کر اورپھر الٹا مجھے انہیں سنبھالنا پڑے گا۔

میں نے ایک دو لوگوں کے ادھار دینے ہیں۔۔۔اب ان کی بھی یاد آئے گی۔ان سے میں ذرا شرمندہ ہونے کی وجہ سے رابطہ ذرا کم کرتی۔لیکن ضروری ہے اس لیے ان کو رابطہ کر کے بتائوں گی کہ میں نے آپ کے ادھار دینے ہیں۔پلیز کچھ دن بعد میرے گھر سے لے لینا۔ایسا اس لیے کہ چھوٹی کو بتا جائوں گی کہ میرے مرنے کے بعد میری چھوڑی چیزیں بیچ کر ادھار واپس کر دینا۔۔

اب آگئی گھر والوں کے لیے ضروری ہدایات کی باری

چھوٹی کو سب بتا سکی تو زبانی بتا جائوں گی ورنہ بھائی اور ابو کے لیے میل یا ریکارڈنگ چھوڑ دوں گی کہ اللہ کا واسطہ ہےمیرے جانے کے بعد میری قبر پکی نہ کروانا۔خواہ مخواہ لوگوں کو دکھانے کو 40 دن تک خود کو ڈسٹرب نہ رکھنا۔میری موت پر آئے لوگوں کو زبردستی قرآن نہ تھمانا جس کا دل نہیں سپارا پڑھنے کاوہ میرے پر احسان نہ کرے۔پلیز نہ پڑھیں میرے لیے۔جو دل سے پڑھنا چاہے وہ ضرور پڑھ لے۔خواہ مخواہ کے تکلفات،رسوم،بناوٹ،دکھاوا مجھے پسند نہیں۔میرا جنازہ پیس فل ہونا چاہیے پلیز مجلس نہ پڑھنا نہ پیٹنا۔نہ شعیہ طریقے سے رسوم کرنا۔صرف ایک دن فرقے اور بائسڈ  ہوئے بغیر جو واقعی اسلامی طریقہ ہے اس سے میری ضروری آخری رسومات کرنا۔میں نے کوئی تیر نہیں مارا دنیا میں رہ کر۔۔۔اس  لیےپلیز میرے مرنے کی خبریں اخبار میں یا چالیسویں کا کارڈ چھپوا

کر میرا تماشا نہ بنوانا۔ہو سکے تو بس دل سے بیٹھ کر میرے لیے دعا کر دینا،مجھے اتنا ہی کافی ہو گا۔میری جمعراتوں پر فضول خرچی مت کرنا۔۔۔نہ بندے بلا کر خواہ مخواہ انہیں بور کرنا۔جتنا ہو سکے دعا پڑھ لینا بس۔مجھے آسمان پر آپ کے بنائے کھانے نہیں پینچیں گے۔دوزخ میں گئی تو بھی اور جنت میں گئی تو خیر پھر تو جنتی کوزین  ہی کھایا کروں گی پھر یہ دنیاوی پلائو،بریانی کہاں مزہ دیں گے لہٰذا یہ خرچے بھی نہ کرنا۔

آنکھیں نم ہونا چاہتی ہوں گی پر میں مسکرانے کی کوشش کروں گی۔یہ بھی ایک صدقہ ہے۔آخری آخری دن ہیں کوشش کروں گی جس پر غصہ بھی آئے اس پر بھی مسکرائوں۔

ان سب کے بعد مجھے لگتا ہے کہ تین دن بڑی آسانی سے گزر چکے ہوں گے۔اپنے آخری دن اپنی اماں کے ہاتھ پیر چوم کر جائوں گی اور انہیں بتائوں گی کہ فکر نہ کرنا۔۔۔ہم پھر ملیں گے جلد۔ٹیک کئیر

میرے رائیٹنگ کے مرشد،ذاہد ایوبی نے مجھے آج ایک بہت دلچسپ اوراہم رائیٹنگ ٹاسک دیا ہے۔اور وہ یہ کہ اگر مجھے یہ پتا چلے کہ میں تین دن بعد مرنے والی ہوں  تو میرا ردِعمل اور لائع عمل کیا ہو گا۔

حکم مرشد کا ہے اس لیے انکار ممکن ہی نہیں۔کوشش کی ہےاس تحریر میں  اپنی اصل سوچ،سمجھ بوجھ اوراحساسات کو قلم بند کرتے ہوئےمضمون کے ساتھ انصاف کر سکوں ۔آمین

 

آخر میں غالب کا ایک شعر

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی

موت آتی ہے پر نہیں آتی
Advertisements

5 thoughts on “موت سے 3 دن پہلے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s