اوورایج

نہیں امی میں نے نہیں جانا سامنے والوں کی شادی پر،32 سالہ شمع نے امی کو منہ بناتے ہوئے کہا۔ارے کیوں تمہیں تو باہر جانا بہت پسند ہے،پھر کیوں نہیں جا رہی۔۔بس امی کہا نے میں نے نہیں جانا۔۔۔کیوں کیوں آپی،،آپ نہیں جائیں گی تو میں بھی نہیں جائوں گی۔۔چھوٹی فروہ نے لاڈ کرتے ہوئے کہا۔اسے شمع کے ساتھ رہنا بہت پسند تھا۔ کوئی فنگشن ہو،تقریب ہو،میلاد ہو۔۔۔وہ شمع کے ہی ساتھ ساتھ ہوتی تھی۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے دیکھ رہی تھی کہ اس کی باجی لوگوں میں جانے سے کترا رہی ہیں۔خصوصاً شادی بیاہوں والے گھروں میں۔اس نے کریدنے کے غرض سے پھر باجی کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر کہا، باجی چلیں نا،ہم خوب سیلفیاں بنائیں گے۔میری اتنی تیاریوں پر پانی نہ پھیریں نا۔یہ لہنگا۔۔۔یہ جھمکے۔۔یہ میک اپ۔۔۔دیکھیں نا چلیں پلیز۔”کہا نا کہ نہیں جانا مجھے۔۔دور ہو جائو میرے سے۔۔۔مجھے دور ہی رکھو ان چیزوں سے۔۔میں نہ نہیں جانا کہیں۔”۔۔۔غصے سے چیختی شمع بہن کا ہاتھ جھٹک کر دالان سے ہوتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔

ہیں آپی کو کیا ہوا۔اتنا غصہ پہلے تو کبھی نہیں کرتی تھیں۔امی آپ نے کچھ کہا ہو گا۔چھوٹی نے حیرت سے پوچھا۔نہیں مجھے تو  نے نہیں پتا کیوں نہیں جارہی نہ میں نے کچھ کہا ہے۔امبر کو پتا ہو گا۔انہوں نے سامنے بیٹھی امبر کی طرف اشارہ کیا۔جو نہ صرف ان کی ہمسائی بلکہ شمع کی بہت گہری دوست بھی تھی اور اسی لیے شاید اس نے اپنی سہلیی کو زیادہ زور دینا مناسب نہیں سمجھا تھا۔اسے پتا تھا شمع نے کیوں انکار کیا ہے جانے سے۔اس کا دل تو کر رہا تھا کہ بتا دے کیا وجہ ہے مگر پھر سوچتی تھی کہ وجہ ہر ایک کے سمجھ میں آنے والی تھی ہی کب

حقیقت تو یہ تھی کہ امبرکا بھی دل نہیں تھا جانے کا کیوں کے اسے بھی اسی قسم کی بناوٹی ہمدردیاں ملنے والی تھی وہاں پہنچ کر جیسا کہ شمع کو ملتی تھیں۔اسے اچھی طرح یاد تھا کہ جہاں چار عورتیں اکٹھی ہوں گی ان کا پسندیدہ موضوعِ گفتگو ہی شمع کی بڑھتی عمر کے باوجود شادی نہ ہو سکنا یا امبر کی طلاق کی اصل وجہ معلوم کرنے کا “چسکا لگانا”ہو گا ۔بظاہر تو سب ہمدردی ہی کرتے تھے مگر اس ہمدردی میں چھپا یہ طعنہ کہ “ضرور تیراہی قصور ہو گا”نہ امبر سہہ سکتی تھی نہ شمع۔ہاں یہ ضرور تھا کہ امبر اب عادی ہو گئی تھی اور لوگوں کو منہ توڈ جواب دے کر منہ بسور آتی تھی،جبکہ شمع سے نہ جواب دینے ہوتے تھے اور نہ وہ ایسے لوگوں سے لڑنا چاہتی تھی جو صرف اچھا ٹائم پاس کرنے کے لیے اس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے۔۔بناوٹ کرتے تھے اور جعلی دلچسپی دکھایا کرتے تھے۔شمع بس کڑ سکتی تھی بس احساسِ جرم اور احساسِ محرومی ہی میں مبتلا ہو سکتی تھی۔اس سے کی جانے والی ہمدردیاں کبھی کبھی شاید اس کی فیور ہی میں ہوتی ہوں مگر وہ کہتے ہیں نا کہ کچھ چیزیوں پر انسان کا بس نہیں ہوتا۔اسی طرح اس کا اس پر بس نہیں تھا اور اسے اچھا نہیں لگتا تھا کہ اس سے اس بارے میں بات کی جائے۔شادی ہونی ہو گی تو ہو جائے گی،نہ ہونی ہو گی تو نہیں ہو گی۔۔۔۔اسے یہ بات پریشان نہیں ڈپریشن میں لے جاتی تھی اور۔جب بھی کوئی اسے اپنائیت جتانے کے لیے یہ سوال کرتا تو ایک عجیب قسم کی سوچ اسے بے چین کر دیتی کہ شاید اس کی زندگی میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔اس کی شخصیت میں کوئی کھوٹ ہے یاپھر اس میں کوئی ایسی بات ہے کہ سب قسمت والوں میں وہ ہی ایک بد قسمت رہ گئی ہے۔اکیلے میں وہ بھلے خود کو یہی سمجھاتی اور سوچتی تھی کہ شادی آخری منزل نہیں۔شادی کے بغیر بھی زندگی گزرتی ہے اور  گزاری جا سکتی ہے۔اور کبھی اسےاس بندھن کا خیال بھی نہ آتا تھا مگر”ہمدرد لوگوں” کے ملنے کے ساتھ ہی ساری ہمت ساری خودمختاری ہوا ہوتی محسوس ہوتی تھی۔وہ ان کے رویے نہ سہہ پاتی جو خود تو شادی شدہ زندگی کے رونے روتی رہتی تھیں مگر  کہہ کراسے ایک عجیب دکھ میں مبتلا کر دیتے تھے۔  “overage”اس کی عمر کو

پہلے پہلے توشمع نے کافی کوشش کی معاشرے سے لڑنے اور ہمت نہ ہارنے کی،پھر ایک ایسا وقت آیا کہ اس کی ہمت بھی جواب دینے لگی اور اس نے اندد سے خود کو ہی قصور وار تسلیم کر کے ایک کمرے میں بند کر لیا۔اب اسے نہ کسی کے طعنے کا ڈر تھا نہ کسی  کی بناوٹی اور جھوٹی ہمدردی کی ضرورت

 

Advertisements

17 thoughts on “اوورایج

  1. hmmmmmmmmmm, Nice, But aik baat clear nahi hoi k shama overage kase ho gi? jab wp jawan thi to us waqat shadi ki trf kiun dhihan nahi diya gya?

    Liked by 1 person

    • یہی تو اس کہانی میں بتایا گیا ہے اگر آپ نے غور سے پڑھا ہو تو۔”بعض چیزیں ہمارےہاتھ میں نہیں ہوتیں

      Liked by 1 person

    • آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں 50 فیصد عورتیں اوور ایج ہو جاتی ہیں۔اس کی یہ وجہ نہیں ہوتی کہ ان کی جوانی میں ان کی شادی پر توجہ نہیں دی گئی۔اس کی وجہ مناسب رشتی نہ ملنا،تعلیم جاری رکھنے کی لگن، جہیز،خاندانی مسائل ۔۔۔۔کچھ بھی ہو سکتا ہے۔کسی کو جج کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے

      Liked by 1 person

  2. Girls become over-aged (with respect to marriage) because today’s Parents make some mistakes:

    – Feel their daughter is a liability, and talk to people in open terms about this thing.
    – Do not openly talk to their daughter what they feel about her future, and what she really feels.
    – Do not frankly open up their kid to know what she actually wants to do with her life, and how does she view marriage and proposals.
    – Are easy with their daughter nurturing the siblings (and at times, complete home) with her job / earnings.
    – Are easy with her studies…degree upon degree….qualification upon qualification.
    – Additionally, are bent upon creating a layer of undue lihaaz, adab, courtesy in the personalities of their kids (read: daughters only) which make the girls’ life hell once they end up with hostile in-laws or emotionally unstable husbands.

    “Hamdard loag” are not hamdard. They are out to enjoy and share another spicy story. In the end, Shama does not punish anyone but her own-self, by locking herself in a room. Unfortunately, she does not find a single person to boost her up. Normally, daughters are fathers’ dolls, and Daddys always are on their side.

    Relatively, the story of Ifk (involving Hazrat Ayesha RA, ending up into her title “Siddiqua”) emphasizes that a woman is not weak. Its the people and circumstances around her, those try to make her feel feeble. If she is righteous, she is stronger than anyone and everyone. She just have to believe in herself and her God.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s