آزادی

آج میں بہت خوش ہوں۔خود کو جتنا ہلکا،آزاد اور مسرورمیں آج محسوس کر رہی ہوں شاید اتنا پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔دور آسمان پر سورج اور بادلوں کی آنکھ مچولی جاری ہے۔سورج منہ نکالتا ہے تو بادلوں کا رنگ پھیکا پڑنے لگتا ہے اور جب بادل سورج کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں تو سورج اداس دِکھنے لگتا ہے۔یہ ہوا میں جوسرخ گلابوں اور کافور ہے،میری روح کر معطر کر رہا ہے۔میں اپنے کمرے میں بیٹھی ہوں۔اب سے کچھ دیر پہلے مجھے نہلا،دھلا کر نئے کپڑے پہنائے گئے ہیں۔

مجھے ساتھ لے جانے والےابھی پہنچے نہیں اس لیے میں بھی اپنے ملنے والوں میں ابھی تک گھری بیٹھی ہوں۔باہر دیگوں کی  دیگیں تیار ہو رہی ہیں اور میرا دل ہے کہ خوشی کے مارے ناچے جا رہا ہے۔مگر میری فیملی،محلہ،جاننے والے،رشتہ دار ،کولیگز۔۔۔میرے سواکوئی خوش نظر نہیں آرہابلکہ سب رو رہے ہیں،آہ بکا کر رہے ہیں اور میرے لیے دعائوں میں مشغول ہیں۔

ایک شور سا برپا ہے میرے گھر میں۔۔۔میرے جاننے والے عزیز،رشتے دار اور وہ بھی جن کو میں نے شاید زندگی میں کبھی نہ دیکھا تھا۔۔۔۔سب جما ہیں۔سب دوڑے چلے آرہے ہیں۔کچھ تو غم سے واقعی نڈھال ہیں اور کچھ کوشش کر رہے ہیں کہ میل جول کی وجہ سے تعزیت کر کے”چاول”ہی کھا لیں۔ خیر یہ طے کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہے سو میں اپنے الفاظ واپس لیتی ہوں ۔سوکم یا زیادہ سب ہی کو افسوس ہے کہ میرا جسم ایسے کیوں بے سدھ پڑا ہوا ہے۔سب مجھے یاد کر رہے ہیں اور سب ہی میرے لئےغمگین دکھائی دیتے ہیں۔

میرے گھر میں میری اولاد،شوہر،بہن بھائی۔۔۔سب کی ہی آنکھیں نم ہیں۔اور ۔۔۔۔سب ہی میرے بے سدھ پڑے جسم پر نوحا کناں ہیں”بہت اچھی خاتون تھیں،”بڑی ہی با اخلاق،با حیا،سلجھی ہوئی اور شریف آنٹی تھیں،”میری رشتہ دار عورتوں میں سے ایک،(جنہیں شاید میں دوسری بار اپنے گھر دیکھ رہی ہوں) نے صدا بلند کی ہے۔

  میرا بیٹا،جو میرے بوڑھاپے کی وجہ سے میرے قریب تک نہ آتا تھا اب رو رو کر اپنا برا حال کیے ہوئے ہے۔میری بیٹی جو بیاہ کے میرا ساتھ چھوڑ کر دور دیس بس گئی تھی ،اس کو غشی کے دورہ طاری ہے۔اورمیرا میاں جو مجھے ساری عمر “بےپردگی ” کےطعنے دیا کرتا تھا اب سر پکڑے بیٹھا ہے۔میرے پوتے، جو میرے پاس بیٹھنے تک بھی گھبراتے تھے اب میرے واپس لوٹنے کی دعائیں کر رہے ہیں۔

میرے  سسرال والے، جنہوں نے میرا زندگی بھر جینا دو بھر کیے رکھا تھا اب مجھے سپارے بخش بخش کر شرمندہ کر رہے ہیں۔ میری موت کی رسمیں ادا کرنے میں جو پیسہ انہوں نے اپنی محلے میں “ناک رکھنے” کے لیے لگا دیا ہے،کبھی اتنا مجھے دیا ہوتا تو  شاید میں بچ ہی جاتی۔بس آج میں یہ تماشا دیکھ دیکھ حیراں ہوں  لیکن شکر کرتی ہوں کہان سب دنیاوی مطلبیرشتوں،رسموں اور جھوٹے رواجوں سے بندھن ٹوٹ گیا۔ ہاں،آج میں بہت خوش ہوں کیونکہ آج میری آزادی کا دن ہے۔ ۔

Advertisements

2 thoughts on “آزادی

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s