بول کے سوچ

ابے سالے کبھی تو سوچ کے بول لیا کر۔دیکھ سارا مزہ خراب کر دیا۔ اب میرا موڈ دن بھر خراب گزرے گا۔۔۔فراز میاں نے امجد کو ڈانتے ہوئے کہا۔

نہ بابا ہم سے نہیں ہوتی یہ لگائی لپٹائی۔جو کہا سو کہا۔ میں تیرا دوست ہوں۔۔دشمن نہیں۔امجد میاں نے فراز کو جواب دیتے ہوئے کہا۔اور منہ پرے کر لیا پھر کنڈیکٹر کو ویگن روکنے کا اشارہ کیا اور چھٹ سے چھلانگ لگا کر یہ جا وہ جا۔ شاید ان کو ڈر تھا کہ اگر بحث زیادہ طویل ہوئ تو جھگڑا نہ ہو جائے۔مگرانہیں اس طرح جاتا دیکھ کر فرازغصے سے چیخے ابے سالے۔۔۔ناراض تو ایسے ہو رہا ہے کہ غلطی ساری ہماری ہی ہو۔ چل جا ۔۔۔جائےگا کہاں کل پھرآ ن دھمکے گاچائے پینے ۔سوچ کے بولتا نہیں ہے پھر اکڑ بھی ۔۔جاتا ہے۔۔۔۔سالا ڈیش ڈیش۔۔

انہوں کے خود سے بڑبڑاتے ہوئے کہااور دوبارہ گاڑی رکوا کر دوست کے پیچھے پیچھے چل دیے۔اب امجد میاں تو رکنے کے تھے نہیں سو فراز نے بھی اپنی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے دوڑنے کی بجائے چپ چاپ چلنا مناسب سمجھا لیکن دوست کا پیچھا کرتے رہے۔

دراصل ان کی دوستی سالوں پرانی تھی۔ایسی دوستی جس میں رتی بھر بھی شک کی گنجائش نہ تھی۔وہ ایک دوسرے کی نس نس سے واقف تھے۔…اور بہت محبت کرنے والے۔۔۔بہت پرانے” لنگوٹی یارٗ” ہوا کرتے تھے۔ ان میں کبھی کسی بات پر بھی اختلاف نہ تھا سوائے ایک بات کے۔۔۔۔وہ یہ کہ امجد میاں سوچے سمجھے بغیر جو دل میں آئے کہہ ڈالتے تھے۔اس کے برعکس فراز کو بہت سوچ سوچ کر بولنے کی عادت تھے۔کون سی بات کہاں کرنی ہے اورکب کرنی ہے۔۔۔کتنے منٹ سوچنی ہے  کتنے گھنٹے نہیں کرنی۔۔۔کیسے کرنی ہے اور کس کو کب لپیٹنا ہے کب نہیں لپیٹنا ۔۔۔۔۔بات اگلے دن کے لئے رکھ چھوڑنی ہے یا اسی وقت پٹاک مار دینی ہےاپنے مطلب کی بات سمجھ لینی ہے اور دوسرے کی چھوڑ دینی ہے یا نہیں چھوڑنی۔۔کس درجہ سمجھ جانی ہے کس درجہ بدھو بن جانا ہے ۔۔

ان تمام گروں سے خوب آگاہ تھے۔اجی کیسے نہ ہوتے۔۔۔ تھے ہی اپنے زمانے کے پائے کے وکیل۔باتوں کا ہنر نہ جانتے تو کامیاب کیسے ہوتے۔

اس کے برعکس امجد صاحب۔۔۔اس حساب سے تھوڑے نالائق اور کم عقل واقع ہوئے تھے۔انہیں باتیں بنانے کا ہنر تو کیا الف بے تک نہیں آتی تھی۔بس جو ہوا ۔۔۔منہ پر پھٹ سے بول دیا۔کبھی دل میں نہیں رکھ پاتے تھے۔جو جی میں آ گئی کہہ ڈالتےاور جو نی کہی اس پر تڑپتے رہتے۔

کبھی کبھی تو فراز میاں سہہ جاتے مگر کبھی ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی تھی۔ان کی دلی خواہش تھی کہ اپنے دوست کی اس بری عادت کو چھڑا دیں۔یہ وہ عادت تھی جس کی وجہ سے زمانےبھر کے لوگ امجد کے خلاف تھے۔ان سے دور تھے یا یہ کہیئے کہ وہ خود  زمانے میں اکیلے سے رہ گئے تھے۔مگر ان کو اس کا کوئی دکھ نہیں تھا۔بناوٹ کی باتیں، مطلب سے دوستی۔محبت میں مسکا۔۔۔دیا کاری،خواہ مخواہ میں کسی کی تعریف یاہمدرد بننے کی کوشش کرنا۔یہ سب ان سے نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔۔ وہ جعلی ہنسی مذاق نہ کر پاتے اسی طرح غصہ چھپا نہیں پاتے تھے۔۔۔۔ان کے چہرے سے عیاں ہو جاتا جو سوچتے۔ان کے نزدیک سوچ کے بولنا  جعل سازی تھی۔ڈرامہ کہا کرتے تھے اس سب کو۔۔ان چیزوں سے کوسوں دور بھاگتے پھرایک وقت ایسا آیا کہ رفتہ رفتہ تمام دنیا سے کٹ کر الگ تھلگ رہنے لگے بس ان کے ایک ہی دوست تھے اور وہ تھے فراز۔۔۔آخر وہ دن بھی آیا کہ وہ بھی ان سے کنی کترانے لگے ۔۔بن بناوٹ جس سے امجد چڑتے تھے وہیان کے ساتھ بھی کرنے لگے تھے ۔مگر وہ دوست کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے بہت کوشش کی کہ ان کا ساتھ نہ چھوٹ سکے مگر ایسا ممکن نہ رہا تھا۔اور آج  یہی وجہ تھی کہ ان کی آخریمرتبہ  بات ہوئی تھی۔اس دن بھی خوام مخواہ کی بناوٹ اور فارمیلٹی سے تنگ آ کرامجد میاں نےسوچا کہ بس اب اور نہیں انہوں نے دوست سے دوری اختیار کر لی!۔

 کبھی کبھی ہم خود کو ان کی جگہ رکھ کر دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ شاید وہ ٹھیک کہتے تھے،یہ تو واقعی دکھاوا ، منافقت،ڈھونگ ہے۔۔۔۔، بولنے سے پہلے سوچنا ہو تو کیا فائدہ ایسے بولنے کا۔اس سے تو بہتر ہے کہ بندہ بت بن کر بیٹھا رہے۔آخر ہمیں جعلی چہرہ لگانے کی ضرورت کیوں ہوتی ہے ۔آخر یہ فارمیلٹی۔دکھاوا،بناوٹ کا بل کس نے پاس کرا رکھا ہے یہاں آخر ہم اپنے ذہن اور دل میں جو آئے اسے چھپا کر اس کو موڈی فائے کرکر بولنے کے اتنے عادی کیوں ہو چکے ہیں۔۔۔آخر ہم بنا چہرہ لگائے کسی سے بات چیت کیوں نہیں کر پاتے؟

کبھی جواب ملے تو ضرور بتائیے گا

Advertisements

One thought on “بول کے سوچ

  1. “Bhaee hum se tuo nahin hota ye sub! ye munaafiqat… ye banaawat..”

    This is not an uncommon sentence around us. There are people who are truly original, clear and without make up. And its a fact too that we like original people, original thoughts, original responses and original personalities. Everyone of us likes kids because they and their responses are original.

    However, another fact is: when it comes to bigger age, its a different ball-game. There are things like manners, lines of communications, codes of ethics, relationships, courtesies and conduct.

    I think, such a person (Amjad Sb) is housed in a defence mechanism, which is sort of a denial. Because, there is a difference between being right and being self-righteous. There are clear standards on munaafiqat (something which most people today think as “difference in walk and talk” – however, its not the definition of munaafiqat – munaafiqat is characterized by lying, cheating, unkeeping promises and lack of manners), manners related to tongue (Hadees e Rasool PBUH goes on, “you guarantee me for 2 things, I guarantee you for heaven”) and superficiality (yes, that’s a valid point in the last paragraph). Being superficial is not only a type of social disorder, it also indicates weak persona, lack of faith in oneself and even falsifying things, which is grave and not likable.

    And since this superficiality is both ways (all around us), thus we live in a society where it has become common – and that is what is bad.

    An excellent piece of writing..

    Blessings all the way…..

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s