ہماری نانی

آج سے ٹھیک چار سال پہلے ،دس دسمبر کے دن ہماری نانی کے گھر میں ایک کہرام برپا تھا،لوگ جوک در جوک ان کے گھرداخل ہو رہے تھے ، مسجدوں میں اعلان چل رہے تھے اور ہم تمام گھر والے ایک سکتے کی سی کیفیت میں تھے۔  گویا ہمارے پائوں کے نیچے سے زمین سرک چکی تھی،آسمان سر پر گر گیا تھا یا ہم سب کو کسی نے ایک ساتھ ہی جیتے جی مار ڈال تھا۔۔میرے تینوں ماموں جو طبعیتاً انتہائی صابر ہیں،زندگی شاید پہلی بار پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔لوگ ہمیں پرسے دے رہے تھے اور ہماری نانی کے حق میں دعائیں کر رہے تھے۔نانی سے دنیاوی رشتے ٹوٹنے کے بعد ایسا لگتا تھا شائد اب ختم ہو گیا سب کچھ۔اب کہاں ہمیں وہ گائیڈ،۔۔۔وہ کہانی سنا کردنیا کے سخت سے سخت سبق سکھانے والی استانی،،وہ ہماری خوشی میں سب سے زیادہ خوش ہونےوالی اور ہمارے غم کو سب سے زیادہ محسوس کرنے والی ہستی ملے گی۔ہم سمجھتے تھے کہ وہ سب تعلق توڑ گئیں،بس اب کہاں وہ ہمیں یاد کریں گی۔مگر ایسا نہیں ہوا۔عجیب بات ہے کہ آج اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی نانی ہمارے ساتھ ہی ہیں بالکل اسی طرح جیسے زندہ ہوتے ہوئے تھیں۔کوئی مشکل آ جائے،کوئی پریشانی ہو،کوئی مسئلہ آن دھمکے۔۔۔۔نانی کو یاد نہیں کرنا پڑتا وہ خود خواب میں آ کر اسی طرح تسلی و دلاسہ دیتی ہیں جیسے پہلے دیا کرتی تھیں۔۔۔۔حتیٰ کہ کوئی خوشی کی خبر سنانی ہو تو بھی سب سے پہلے نانی ہی نیوتا دینے آتی ہیں۔

جب وہ حیات تھیں تو ان کی ڈانٹ اور غصہ بھری نظروں میں چھپی شفقت،محبت،،احساس اور درد ہمیں سمجھ نہیں آتے تھے۔نافرمان اولاد کی طرح ہم بھی ان کی ڈانٹ پر برہم ہو جاتے تھے اور سوچا کرتے تھے کہ کیا ہم ہی ملے ہیں نانی کو ڈانٹنے کے لیے،اس وقت کب علم تھا کہ جس سے زیادہ محبت ہو اسی کو تو مائیں زیادہ ڈانٹا کرتی ہیں۔جس کے لیے زیادہ درد محسوس ہوتا ہو اسی کے لیے تو ان کا غصہ ہوتا ہے۔۔۔ہم کہاں اتنے سمجھدار تھے۔ آج سوچتے ہیں کہ ہم کتنے ناداں تھے۔ہماری طاقت ،ہمارے کانفیڈنس ، ہماری انسپیریشن کو کیسے ہم سمجھ نہ سکے جو آج بھی ہمارے حالات ،ہمارے احساسات پر بڑی گہری نگاہ رکھتی ہیں۔ہم یاد کریں نہ کریں وہ خود ہمارے ساتھ ساتھ چل رہی ہیں ،ہم انہیں بھول سکتے ہیں مگر وہ آج بھی ہمیں نہین بھولیں! می

یا اللہ میری ماں سے بڑھ کر پیار اور خیال کرنے والی نانی امی کی مغفرت فرما،ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عظا فرما اور ان کے درجات بلند فرما۔آمین

Advertisements

2 thoughts on “ہماری نانی

  1. Beautiful…!

    Someone once asked Hazrat Ali Usman Hajveri (Daata Sb), “bachchay pe ziaada nanihaal kay hai ya dadhiyaal ka…?”

    He pondered over, and then said, “Nanihaal ka”….

    The man was amazed… He said, “Wo kaisay, aur kyoun?”
    Bazurg said, “Allah kay Rasool PBUH ne farmaya thaa, insaan pe ziaada haq kiska hai?”
    The guy said, “Maan ka..”..
    Bazurg said, “Buss” Iisi nisbat se, nanihaal ka ziaada haq hai…”

    Meri Naani (Marhooma) ka aik shi’r, iss post ki nisbat se:

    ~ Kon aaya hai, zaraa aik nazar dekh to lo
    kiya khabar waqt dabey paaoun chalaa aaya ho…

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s