جشنِ آمدِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی میں

آج 12 ربیع الاول 2016،جشن ِ عید کی شام ہے۔ہر طرف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرنے والے اپنی اپنی سمجھ  اور سوچ کے مطابق خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔کوئی آپ کی شان میں نعتیں پیش کر رہا ہے تو کوئی میلاد کی محفل سجانے میں مشغول ہے۔کوئی پٹاخے بجا کر خوش ہو رہا ہے تو کوئی پھول و پتیوں سے کمرہ مزین کر کے مطمین ہے۔

ٹی وی اور کیبل پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے متعلق پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں اور وٹس ایپ، فیس بک اور ٹیوٹر پر بھی آج کے دن کی مناسبت سے تصاویر،سٹیٹس اور افکار شئیر کر کےلوگ اپنی اپنی عقیدت کا اظہار کر رہےہیں۔۔خواتین گھروں میں میٹھے تیار کررہی ہیں اور مسجدوں پررنگین برقی قمقمے بھی آمد ِمصطفیٰ کی صدا بلند کرتے ہوئے محسوس ہو رہےہیں

گویا چہار سو بس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کا ہی چرچا ہے اورآپ ہی کا نام بلند ہے۔اور کیوں نہ ہو آپ کے نام کا مطلب ہی “بہت زیادہ تعریف کیا گیا” ہےہ

ایسے میں ایک گوشے میں بیٹھے،ہمارے دل میں بھی بس یونہی ایک خیال آیا ہے کہ اگر ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نصیب ہوتا تو ہم اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کس طرح کرتے؟

  ہمیں لگتا ہے کہ ہم بہت دن پہلے سے بہت زیادہ ایکسائیٹڈ ہو جاتے۔اپنا سعودیہ کا ویزہ بنوانے کی کوشش کرتے،نہ بنتا تو پیدل سفرکی ٹھانتے ۔ نہ صرف کال اور میسجز پر انہیں بہت ساری مبارک باد بھیجتے بلکہ

 نئے کپڑے بھی بنواتے۔غسل کرتے،کپڑے پہنتے،خوشبو لگاتے اپنا سامان باندھتےاور بڑی خوشی خوشی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے در پر حاضری دینے کے لیے روانہ ہوتے۔بھلے دفتر سے نہ چھٹی ملتی،ہم بغیر بے کے چھٹی لیتے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اور ان کے پیارے نواسوں اورخصوصاً بیٹی حضرت فاطمہ  کے لیے تحفے میں ایک پیارا سا سوٹ اور کھانے میں کیک خریدتے۔ہماری کوکنگ بہت پائے کی تو نہیں مگر ہم کچھ نہ کچھ خود بھی تیار کر کے لے کر جاتے۔وہ شاید بہت مہنگی تو نہ ہوتی مگر ہاں یہ ضرور جانتے ہیں کہ اس کھانے میں ہماری محبت، خلوص اور چاہت ضرور شامل ہوتی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تازے گلاب کے پھول اور خوبصورت سا عمامہ بھی لیتے۔ان کے پاس جاتے ہوئے تسبیح ہاتھ میں ہوتی اور درود زباں پر۔۔پھر جب ہم ان کے گھر کے دروازے پر پہنچتے تو یقین ہے کہ خوب رش کے باوجود ہمیں بھی خوب پیار سے خوش آمدید کہا جاتا۔ہم ان سے نظریں ملانے کے قابل تو نہ ہوتے مگر پھر بھی ان پر ایک نظر ڈالنے کی غرض سے آنکھ اٹھاتے۔اورگناہوں کے بوجھ تلے دبے دل سے ایک آواز نکلتی کہ تمہیں انہوں نے اتنی عزت دی،تم کسی قابل بھی نہ تھی۔یہ سوچتے ہی ہم شرم سے نظریں نیچی کر لیتے اور آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑیاں ٹپکنے لگتیں۔۔حضور ۔۔۔۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے اور کہتے، “ثمانہ،رو کیوں رہی  ہو،تمہاری مجھ سے عقیدت اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوئی

کاش ہمیں بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ مل جاتا۔

Advertisements

8 thoughts on “جشنِ آمدِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی میں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s