……ملازمت پیشہ آدمی کا سویگ

……ملازمت پیشہ آدمی کا سویگ

کون کہتا ہے کہ ماڈلز،ریبرز،گلوکاراور “پنڈی بوائز” کا ہی سویگ ہوتا ہے؟

ملازمت پیشہ آدمی کا سویگ دیکھنا ہو تو مہینے کی پہلی تاریخوں میں دیکھئے۔پورے مہینے کے دن ایک طرف اور پہلی تار

ایک طرف۔ہمارا بھی حال کچھ ایسا ہی ہے،پورا مہینہ ہم اس تاریخ کی آس میں رات کیا دن میں بھی تارے گنتے رہتے ہیں اور اللہ اللہ کر کے جب پورے تیس دن بعد یہ تاریخ آتی ہے تو ہمارا دل جھوم اٹھتا ہے،ہم اے ٹی ایم مشین کی جانب اڑ کر پہنچنے کی کوشش

کرتے ہیں۔ اورتنخواہ بخیروعافیتی سے ہمارے اکائونٹ میں منتقل ہونے کا میسج ملنے کی دیر ہوتی ہے… ہم بڑی تعظیم اور باقاعدگی سے اپنے ساتھیوں کو پچھاڑتے ہوئے اے ٹی ایم کا رخ کرتے ہیں۔پھر جب نئے نکور نوٹ مشین سے باہر صحٰٰیح سالم نکل

آئیں تو ہماری بھی جان میں جان آتی ہے۔

اور اگر خدانخواستہ کبھی کسی بنا پر یہ مشین جواب دے جائے تو ہمارے طوطے ہی اڈ جاتے ہیں۔

پھر ٹونے اور ٹوٹکے آزمانے پڑتے ہیں جیسے کہ بینک والوں کو کالیں،گالیاں،غصے کا اظہار اور بہن بھائیوں سے ادھار لے کر گزارا کرنا پڑتا ہے۔

کھبی کھبی ہم سوچتے ہیں کہ سال کی یہ پہلی تاریخ نہ ہوتی تو ہم کہاں جاتے۔۔۔یہ ہنسی،یہ کھلکھلانا،یہ بازار کے خامخواہ کے چکر،یہ ریڑھی سے کھڑے ہو کر چاٹ کھانے کی عیاشی کہاں سے آتی….ہمارا تو سارا کانفیڈنس ہی پہلی تاریخ سے وابسطہ ہوتا ہے پورے ماہ کوئی چیز خریدنی ہو،ادھار لینا ہو،کہیں ملنے جانا ہو یا کوئی دعوت کرنی ہو۔۔۔پہلی تاریخ پر ہی آسرا ہوتا ہے. اوراس کا انتظار ایسے کرتے ہیں جیسے لڑکیاں اپنے گھر آنے والے”اسپیشل گیسٹ” کی راہ بھی نہیں تکتیں ہوں گی۔

آج بھی مہینے کی پہلی پہلی تاریخیں ہی چل رہی ہیں اور ہماری نبض اور دل کی دھڑکن بھی تیز تیز چل رہی ہے خوشی کے مارے۔..آخر خوش کیوں نہ ہوں،مہینے کی یہ وہ واحد تاریخ ہے جب ہمارا بھی آفس شوق سے جانے کا دل کرتا ہے۔۔.۔۔۔

آج تنخواہ ہاتھ میں ہے تو ہم بھی گردن اکڑا کر چل رہے ہیں،پائوں زمین پر پڑ ہی نہیں رہے اور باچھیں ایسے کھلی جا رہی ہیں

جیسے ہمارے ساتھ بیٹھے لوگ بات نہیں کر رہے،لطیفے ہانگ رہے ہوں۔.۔یہ ہمارا خاص “سویگ” ہے جودیکھنے والے کو ہم میں

صرف مہینے کی پہلی تاریخ پر ہی نظرآ سکتا ہے۔

اب ہمارا موڈ
خوامخواہ اچھا ہی رہے گا۔ہم خوامخواہ ہی گنگنائیں گے،خواہ مخواہ ہی جھومیں گے اور بلا وجہ ہی مستی کرنے لگیں گے
بھئی کیوں کہ ہوں ۔۔۔
آج کل ہمارے عیاشی کے دن ہیں۔ہم بھی بازار جا رہے ہیں،اسٹالوں پر کھڑے کھڑے چیزیں “کانفیڈنس” سے دیکھ رہے ہیں،”لینا نہ لینا ایک الگ بات ہے”گھر خوشی خوشی فون کر کے پوچھ رہے ہیں کہ کوئی چیز چاہئے تو بتائو آخر پورا مہینہ ہم نےگھر والوں سے منہ بنائے رکھا،خوامخواہ کی فرمائیشیں جو کرتے تھے۔.
اور یہ سویگ پورے پانچ دن۔۔۔کبھی کبھی تین اور کبھی دو دن بھی چلتا ہے۔پھر رفتہ رفتہ ہم اپنی اوقات پر آ جاتے ہیں۔۔۔۔کیونکہ پھر ہم،ہم ہی ہوتے ہیں ’جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘۔۔۔۔ہی ہی ہی

Advertisements

6 thoughts on “……ملازمت پیشہ آدمی کا سویگ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s