بے کار سے شاہکار کی جانب۔۔۔۔۔

If this excerpt was written in English, it would be named as "Paradise Regained"

بے کار سے شاہکار کی جانب۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔

ہمیں لکھنے کا شوق بچپن سے نہیں تھا ہم تو پڑھائی سے کوسوں دور بھاگنے والے اسٹوڈنٹتھے۔ہمیں یاد ہے ہماری بڑی باجی کو کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ ان کے پاس جتنی کہانی کی کتابیں،رسالے،ڈائری اور ایسی ہی پڑھے لکھے لوگوں والی چیزیں ہوا کرتی تھیں اتنے ہمارے پاس گڈیاں،پٹولے،گڑیا کا جہیز اور زیور ہوا کرتا تھا۔ یہ لکھنے لکھانے کا شعور کہاں سے جاگا یہ تو یاد نہیں ہاں البتہ یہ ضرور یاد ہے کہ اسکول میں ہر پرچے میں فیل ہونے کے باوجود تخلیقی مضامین یا وہ چیز جو استانی صاحبہ نے ہاتھ پکڑ کر پیاراور اپنائیت سے سمجھا دی وہ زندگی بھر نہیں بھولی۔ اردو اور انگریزی حتیٰ کہ سائنس میں بھی اگر کوئی چیز سمجھ آ گئی تووہ خود ہی بغیر یاد کیے لکھ کرآ جایا کرتے تھے اور نمبر بھی لے لیتے تھے۔
frustratedپھر وقت گزرا اور ہمیں احساس ہوا کہ ہم میں ایک بہت بڑا نقص ہے۔ہم بے چین اور

طبعیت کے واقع ہوئے تھے۔مگر اتنی عقل کہاں تھی کہ فرسٹریشن کہاں اور کسیے ختم ہو گی۔۔۔بہترا دعائیں مانگا کرتے تھے، بہت سی پینٹنگز،اسکچز بنانے کے کوشش کیا کرتے تھے اپنے اندد کے طوفانوں کو نکالنے کے لیے مگر کچھ خاص افاقہ نہ ہوتا تھا۔(لوگوں کی باتوں پر کان دھرنے کی عادت جو تھی کہ پینٹنگ اور اسکچز بنانے سے گناہ ہوتا ہے،سو وہ بات کہیں چھپی بیٹھی تھی دل میں“،اب کیا کرتے کچھ سمجھ نہیں آتا تھا۔

پھر میٹرک کے بعد ایک ڈائری بنائی،مگر اس میں کھل کے اپنے احساسات کا اظہار کرتے توڈر تھا کسی کی عزت مجروح نہ کر بیٹھیں اور اگر ڈھکے چھپے الفاظ میں لکھتے تو ڈائری کا مقصد بھی فوت ہو جاتا۔ پھر اس مشغلے کو بھی خیر باد کہا کیونکہ ایک دن ایک کزن نے وہ ڈائری اٹھا کر پڑھی تو خوب ہنسا کہ ’ تم تو بہت روندو نکلیں‘ ،،،اب کیا کرتے۔ اپنے احساسات کو دل میں ہی دفن کرنے کا سوچا اور ہمیشہ کے لیے یہ لکھ لکھا کر اپنے “روندو” ہونے کا ثبوت نہ دینے کی ٹھانی اور پوری عمر ڈرتے ڈرتے   ہی گزار دینے کا ارادہ کیا۔

لیکن اندر جو لاوا سلگ رہا تھا وہ باہر آنے کا راستہ نکال گیا۔ ہوا یہ کہ جب ہم نے انگریزی میں لکھنا شروع کیا اور ہمارا کام پسند بھی کیا جانے لگا تو ہمیں تھوڑی آس ہوئی کہ چلو ہم بھی کسی کام کے بندے ہیں۔پھر جب ہمارے کام سے متاثر ہو کر ہمیں رسالے میں نوکری بھی مل گئی تو ہمیں اندازہ ہوا کہ ہاں ہم بھی کچھ کرسکتے ہیں۔ساتھ ہی ساتھ ہمارے ساتھیوں نے بھی خوب حوصلہ افرائی کی تب جا کے تھوڑا آسرا ہوا کہ ہاں ہمیں بھی کچھ کرنا چاہئے۔

اب جا کے سوچتے ہیں کہ اتنا ڈر کس چیز کا تھا….آخر ہم بھی تو ایک زندہ انسان ہیں ہم بھی تو کوئی سوچ رکھتے ہیں،روندو ہوں یا کچھ بھی ہو۔۔آخر کسی کو کیا حق کہ ہمارے پائوں میں احساسات کا اظہار نہ کرنے کی بیڑی لگائے اورہمیں بھی آخر دنیا کی کیوں پروا۔۔۔آخر دنیا کی پروا کر کے ملا ہی کیا ہے کبھی کسی کو؟
جب سے اس سوچ سے گرد اٹھی ہے ہم نے بھی ٹھان لی ہے ہم اپنی نیچرل انسٹنکٹ نہیں بھولیں گے اور اس بےکار سے شہکار کے سفر کو ہمیشہ جاری رکھیں گے
انشاء اللہ

Advertisements

10 thoughts on “بے کار سے شاہکار کی جانب۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s