نا تمام

Natamam is about unrequited love.

اس سے دو سال بات نہیں ہوئی تو ہم نے سوچا چلو ہم بھول گئے سب،چلو اچھا ہوا جان چھٹی۔۔۔۔بڑی تیزی سے دن گزرے،راتیں کٹیں اور پھر پتا بھی نہ چلا وقت پنکھ لگا کر اڑ گیا جیسے بچھڑنا صدیوں پرانا قصہ ہو اور ہمارا اس سے کوئی واسطہ بھی نہ ہو۔

بچپن سے سنتے آئے تھے کہ غمِ جاناں سے بڑھ کر غمِ معاش ہوتا ہے۔سو ہم بھی خود کو دو سال یہی سمجھاتے رہے اور جتے رہے کام میں ایسے جیسے کوئی جانور یوں یا کوئی روبوٹ کہ بٹن دبایا اور جھٹ سے کام ہو گیا۔آخر وہ بھی تو یہی کہہ کر اپنا دامن بچایا کرتی تھی نا ہم سے کہ محبت کہاں سچ ہوتی ہے،غمِ معاش کا غم ہی تو اصل غم ہوتا ہے،توتم اس غم کی فکر کیا کروہاشم،محبت محبت چھوڑو۔ اس میں کیا رکھا ہے۔تمہارے دعوئ سچ نہیں۔

آج برسوں بعد پھر اس سے ملاقات ہوئی بس یونہی کہیں سے اس کا نمبر ہمارے دماغ میں گونجنے لگا تھا۔جانتے تھے کہ وہ بھول چکی ہے، اپنی نئی زندگی میں مصروف ہےمگن ہے،پھر بھی بس یونہی دعا سلام کا جی کیا۔۔۔سوچا کہ چلو چلتے چلتے حال پوچھ ۔۔لیا چائے۔اب تو  ایک ننھا سا بچہ بھی ہے اس کا،چلو اس بچے کا ہی پوچھتے چلیں۔

سمجھتے تھے کہ ہم تو سنبھل گئے۔اتنے عرصے میں اس سے نفرت کی کوششیں کر کر کے۔۔۔اپنی محبت منوں مٹی تلے دبا کر۔۔۔اتنے عرصے میں اتنا کچھ ہونے کے باوجود کہاں اس کی جگہ رہی ہےہمارے دل میں ،ہم ہر جو جو قیامت بیتی اس کے بعد کہاں توقع کریں گے دوبارہ اس سے ہم  یا وہ ہم سے۔۔۔

ہمیں تو کہیں مہینے وہ یاد تک نہیں آئی اور یقین تھا کہ اس کو بھی ہمارا نام تک بھول چکا ہو گا۔تو پھر سے پھسلنے کا گماں کیسا؟

بس یہی سوچ کر ہم نے اس کا نمبر وٹس ایپ پر ڈالا۔سوچا تھا کہاں بات کرنا پسند کرے گی۔بس ہوں ہاں ہی کر دے تو کافی ہو گا ہمارے لیے۔اور اگر کی بھی تو محض سلام دعا میں حرج ہی کیا ہے۔دوبارہ کہاں ہم اسے اتنا حق دیں گے کہ ہمیں پھر سے برباد کرے،ہمیں توڑنے کے بعد ہماری کرچی کرچی جوڑنے کےواسطے آگےبڑھے۔

مگر معاملہکچھ الگ اور مختلف ہی ہوا ہمارے ساتھ جو ہم نے سوچا تک نہ تھا۔

 اس سے بات کرنے کے بعد ایسا لگا جیسے کوئی رنجش تھی ہی نہیں ہم دونوں کے درمیاں جیسے کوئی بندش،کوئی تلخی تھی ہی نہ ہمارے درمیاں ۔۔۔جیسے کبھی کچھ برا ہوا ہی نہ تھا۔

 اس کی آواز سنتے ہی  پہلے  جیسا پیار، محبت، وہ پرانے وعدے وہ پرانے درد جاگنے کا سوچا بھی نہ تھا۔

لیکن جیسے صدیوں سے بند طوفاں کو روکنا ممکن نہیں ہوتا اور اسی طرح کچھ درد بھی ہمارے بس میں نہیں ہوتے۔بھلے جتنا بھی سلا لیں انہیں،ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پاتے۔بس کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارے ساتھ اس دن پیش آیا۔

خود کو سو سمجھایا مگر درد ختم ہی کب ہوا تھا جو دوبارہ نہ جاگتا۔اس سے بات ایسے ہوئی جیسے اس سے صدیوں کی شناسائی تھی۔جیسے دوست تھی وہ ہماری۔جیسے کبھی ہم میں جدائی آئی ہی نہ تھی۔اور کچھ لمحے توایسا لگا گویا دو سال ہمارے پہلو میں دل ہی نہ تھا۔اس سے بات کرنے کے بعد دل میں دھڑکن ایسے جاگی تھی جیسے ہم کوئی دسویں جماعت کے طالبِ علم ہوں جسے پہلی بار لڑکی دیکھنے کو ملی ہو یا ہم ایسے محبت کرنے والے ہوں جو کبھی بچھڑے تھے ہی نہیں۔

جو درد اب کی بارجاگا تھا وہ پہلے سے کہیں گنا زیادہ ،تکلیف دہ اوربے حال کرنے والا تھا۔۔۔۔

اور اسی لئے ہم نے ٹھانی

۔شاید اس سے دور رہنے میں ہی بھلائی ہے۔ کیونکہ کچھ زخم ناسور بن جاتے ہیں۔اور ہمارا زخم بھی شایداب ناسور بن چکا تھا۔

Advertisements

3 thoughts on “نا تمام

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s